11/17/2012

"بالهمة نرتقي" برنامج دعوي للجالية الهندية



جاء ذلك خلال البرنامج التربوية للمهتدين الجدد من الجالية الهندية والذي نظمته إدارة الشئون الدعوية بالفرع الرئيسي تحت شعار "بالهمة نرتقي" وشارك في البرنامج 16 من المهتدين بالإضافة إلى الدعاة، واحتوى البرنامج على محاضرة دعوية للداعية صفات عالم زبير بعنوان "الهمة طريق القمة" وعرض عبر بور بوينت للداعية النيبالي محمد إبراهيم، ويهدف البرنامج إلى إيجاد روح الهمة لدى المهتدين وتنشيط كفاءتهم لصالح الإسلام والمسلمين.

وأضاف صفات عالم محمد زبير التيمي في محاضرته: هناك العديد من القصص والأمثلة المتعلقة بالهمة العالية، وقدوتنا في هذا هي سيرة المصطفى صلى الله عليه وسلم؛ إذ المعروف عند أهل التواريخ أن بناء الأمم يحتاج إلى أجيال لتحقيقه، لكنه صلى الله عليه وسلم استطاع بناء خير أمة أخرجت للناس في أقل من ربع قرن، واستطاعت هذه الأمة أن تنير بالإسلام غالب الأجزاء المعروفة من العالم آنذاك مشيرا إلى جهاده صلى الله عليه وسلم، وعمله، وهمته العالية في بناء الأمة، كما أن الصدِّيق رضي الله عنه استطاع في أقلَّ من سنتين أن يخرج من دائرة حصار المرتدين، ولم يمت إلا وجيوشه تحاصر أعظم إمبراطوريتين في ذلك الوقت.

عقب ذلك قدم الداعية النيبالي محمد إبراهيم عرض بور بوينت تضمن الثمان النصائح الذهبية التي ترفع شأن المسلم وتزين حياته الفردية والاجتماعية.

في نهاية البرنامج تم عرض ثلاث فيديوهات تشتمل على علو الهمة وكما تم تزويدهم ببعض التوصيات المهمة لرفع الهمة وتنشيط الكفاءة الكامنة في نفوسهم.

يذكر أنه في بداية البرنامج تم توزيع الأوراق على الحضور لتسجيل ما يحلمون به مستقبلا، فقال البعض: أريد أن أكون داعيا، وقال الأكثرون نرغب أن تدخل أسرتنا فى الإسلام حتى نتمكن من إيجاد الجو الإسلامي في مجتمعنا. بينما قال الأخ أشرف أحد المهتدين المتميزين بالحماس: يجب علينا أن نرتق بهمتنا لرفع شأن الإسلام، فعلينا أن نتكاتف جميعا لنكون يدا واحدا لنشر الخير إلى العالم.


11/08/2012

رسالة sms إلي غير المسلمين

من أساليب دعوة غير المسلمين إرسال الرسائل الدعوية إليهم تظهر حبك ونصيحتك لهم ومن التجارب الناجحة تجربة حصلتها بعد ما أرسلت يوما بعد الفجر مباشرة رسالة إلى بعض غير المسلمين المثقفين الذين كنت بالمتابعة معهم ونص الرسالة كالتالي: 
صباح الخير! كنت أدعو الله لك الآن ، فأردت أن أخبرك بأنني أحبك وأريد لك الخير، ولم أرد إزعاجك، والإسلام يدعونا أن نحب لأخينا ما نحب لأنفسنا ... ودمت بخير  
सुप्रभात! आप सब पर अल्लाह की दया और उसकी शान्ति हो.... मैं सुबह की नमाज़ के बाद आप सब के लिए अल्लाह से प्रार्थना कर रहा था, मैं आप सब को बताना चाहता था कि मेरे ह्रदय में आप सब के प्रति स्नेह है। इस्लाम हमें आदेश देता है कि जो तुम अपने लिए चाहते हो वही अपने भाइयों के लिए भी चाहो।... आप सब का दिन मंगलमय हो, यही मेरी कामना है।
 لما أرسلت إليهم هذه الرسالة فلاتسأل عن الإعجاب وإظهار الحب بالنسبة لي وهكذا يمكن لك كسب قلوب غير المسلمين المتشددين في ديانتهم خاصة وتهيئة أذهانهم للتعرف على الإسلام.

11/01/2012

میں نے اسلام کیوں قبول کیا ؟

گذشتہ کل بروز بدھ 31 اکتوبر 2012کونیویارک امریکہ کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہونے والی معروف مصنفہ، صحافی اورشاعرہ محترمہ مریم جمیلہ (پیدائشی نام: مارگریٹ مارکس) لاہور میں وفات پاگئیں۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ انہوں نے 24 مئی 1961ءکو اسلام قبول کیا۔ دو درجن سے زائد کتب کی مصنفہ ہیں۔ قبول اسلام سے پہلے ان کے اورمولانا مودودی کے بیچ خط وکتابت ہوئی ، دونوں کے خطوط مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی خط و کتابت نامی ایک کتاب کے ذریعے شائع کیے گئے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی وہ عام امریکی اور یہودی عورتوں سے ہٹ کر پاکیزہ طریقے سے زندگی گزار رہی تھیں،قبول اسلام کے بعد 1962ءمیں وہ لاہور پہنچیں جہاں انہوں نے موددوی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں ہی محمد یوسف خان نامی شخص سے شادی کرلی تھیں۔. انہوں نے اسلام پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں، اب تک ان کی ایک درجن سے زیادہ انگریزی کتابیں لوگوں کے سامنے آ چکی ہیں۔

 ” قرآن سے میرا تعارف عجیب طریقے سے ہوا، میں بہت چھوٹی تھی جب مجھے موسیقی سے بہت لگاؤ ہو گیا. بہت سے گیتوں اورموسیقیوں کے سور بہت دیر تک میرے کانوں کو لوریاں دیتے رہتے، میری عمر تقریباً 11 سال کی تھی، جب ایک دن اتفاق سے میں نے ریڈیو پر عربی موسیقی سن لیا، جس نے دل و دماغ کو خوشی کے ایک عجیب احساس سے بھر دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ میں خالی وقت میں بڑے شوق سے عربی موسیقی سنتی، یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ میری دلچسپی ہی بدل گئی۔
میں اپنے والد کے ساتھ نیویارک کے شامی سفارت خانے میں گئی اور عربی موسیقی کے بہت سے ریکارڈ لے آئی،انہی میں سورہ مریم کی بہترین تلاوت بھی تھی جو ام کلثوم کی نہایت سریلی آواز میں ریکارڈ کی گئی تھی. حالانکہ میں ان کے مفہوم کو سمجھ نہیں سکتی تھی مگر عربی زبان کی آوازوں اور سروں سے مجھے بے حد محبت ہو گئی تھی، سورہ مریم کی تلاوت گویامجھ پر جادو کا سااثر ڈال رہی تھی، عربی زبان سے اس گہرے لگاؤ ہی کا نتیجہ تھا کہ میں نے عربوں کے بارے میں کتابیں پڑھنی شروع کی، خاص طور سے عربوں اور یہودیوں کے تعلقات پر چھان بین کرکے کتابیں حاصل کیں اور یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی کہ اگرچہ خیال کے لحاظ سے یہودی اور عرب ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں مگر یہودی عبادت خانوں میں فلسطینی عربوں کے خلاف بہت زبردست زہر اگلا جاتا ہے۔
ساتھ ہی عیسائیوں کے رویے نے مجھے بہت مایوس کیا. میں نے عیسائیت کوفحاشی کے علاوہ کچھ نہ پایا. چرچ نے بہت سی اخلاقی،سیاسی،اقتصادی اور تہذیبی خرابیوںکا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، اس سے خاص طور پر میں پریشان ہوئی، میں نے یہودی اور عیسائی عبادت خانو ںکو بہت قریب سے دیکھا اور دونوں کو منافقت اور برائی کی دلدل میں ڈوبے ہوئے پایا،میں یہودی تھی، اس لیے یہودیت کا مطالعہ کرتے ہوئے جب میں نے محسوس کیا کہ اسلام تاریخی اعتبار سے یہودیت کے بہت قریب ہے تو فطری طور پر اسلام اور عربوں کے بارے میں جاننے کا شوق پیدا ہوا، 1953 ء کے گرمی کے موسم میں میں بہت زیادہ بیمار پڑ گئی۔میں بستر پر لیٹی تھی جب ایک شام میری ماں نے پبلک لائبریری جاتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ میں کوئی کتاب تو نہیں منگوانا چاہتی ہوں تو میں نے قرآن کے ایک نسخے کی فرمائش کی اور وہ آتی ہوئی جارج سیل کا ترجمہ کیا ہوا قرآن لے آئیں اور اس طرح قرآن سے میرے تعلق کی ابتدا ہوئی. جارج سیل 18 ویں صدی کا عیسائی عالم اور مبلغ تھا، جواپنے مذہب میں بہت کٹر اور تنگ نظرتھا، ان کے ترجمہ کی زبان مشکل ہے اور تبصروں میں غیر ضروری امور سے ہٹ کر حوالے دیے گئے ہیں، تاکہ عیسائی نقطہ نظر سے اسے غلط ثابت کیا جا سکے، ایک بار تو میں انہیں بالکل نہ سمجھ سکی مگر میں نے اس کا مطالعہ کرنا نہ چھوڑا اور اسے تین دن اور تین رات برابر پڑھتی رہی یہاں تک کہ تھک گئی، انہی دنوں قسمت نے ساتھ دیا اور کتابوں کی ایک دکان پر میں نے محمد مارماڈیوک پپیکتھال کا ترجمہ دیکھا۔
جوں ہی میں نے اس قرآن کو کھولا، مجھے ایک زبردست چیز معلوم ہوئی. زبان کا حسن اور بیان کی سادگی مجھے اپنے ساتھ بہا لے گئی، حرف اولیںکے پہلے ہی کلمات میں مترجم نے بہت خوبصورت طریقے سے واضح کیا ہے کہ یہ قرآنی معانی کو جیسا کہ عام مسلمان اسے سمجھتے ہیں، انگریزی زبان میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہے اور جو شخص قرآن پر یقین نہیں رکھتا وہ ترجمہ کا حق ادا نہیں کر سکتا، دنیا میں کوئی بھی ترجمہ عربی قرآن کی جگہ نہیں لے سکتا وغیرہ. میں فورا سمجھ گئی کہ جارج سیل کا ترجمہ ناگوار کیوں تھا؟
اللہ تعالی پیک تھل کو بہت سی رحمتو ںسے نوازے، انہوں نے برطانیہ اور امریکہ میں قرآن کو سمجھنا آسان بنا دیا اور میرے سامنے بھی روشنیوں کے دروازے کھول دیئے، میں نے اسلام میں ہر وہ اچھی، سچی اور حسین چیز پائی جو زندگی اور موت کو مقصد دیتی ہے جب کہ دوسرے مذاہب میں حق مٹ کر رہ گیا ہے، اس کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے، اس کے آس پاس کئی طرح کے دائرے کھینچ دئیے گئے ہیں ، قرآن اور اس کے بعد مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعہ سے مجھے یقین ہو گیا کہ عربوں نے اسلام کو عظیم نہیں بنایا بلکہ یہ اسلام ہے جس کی وجہ سے عرب دنیا بھر میں کامیاب ہوئے،میری بیماری برسوں تک رہی، یہاں تک کہ 1959 ءمیں پوری طرح سے صحت مند ہو کر میں نے اپنا زیادہ وقت پبلک لائبریری نیویارک میں گزارنا شروع کیا۔
یہیں پر مجھے پہلی بار حدیث کی مشہور کتاب مشکاة المصابیح کے انگریزی ترجمے کی چار موٹی جلدوں سے تعارف ہوا، یہ کلکتہ کے مولانا فضل الرحمن کی کوششوں کا نتیجہ تھی، تب مجھے اندازہ ہوا کہ حدیث کے متعلق حصوں سے تعارف کے بغیر قرآن پاک کو مناسب اور تفصیلی طور پر سمجھنا ممکن نہیں، ظاہر ہے نبی پاک اجن پر قرآن وحی کی شکل میںنازل ہوتاتھا، کی رہنمائی اور تشریح کے بغیر اللہ کے کلام کو کس طرح سمجھا جا سکتا ہے، اسی لیے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ حدیث کو نہیں مانتے، اصل میں وہ قرآن کریم کا بھی انکار کرنے والے ہیں۔
مشکاة المصابیح کے وسیع مطالعہ کے بعد مجھے اس حقیقت میں کچھ بھی شک نہیں رہا کہ قرآن اللہ کا اتارا ہواکلام ہے، اوراس مطالعہ نے میری سوچ کوتقویت پہنچائی کہ قرآن اللہ تعالی کا کلام ہے اور یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دماغی سوچ کا نتیجہ نہیں،یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن زندگی کے بارے میں تمام بنیادی سوالات کا ایسا ٹھوس اور مطمئن کرنے والا جواب دیتا ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔
میرے والد نے ایک بار مجھے بتایا کہ دنیا میں کوئی عہدہ ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے، اس لئے ہمیں بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ خود کو تبدیل کر لینا چاہئے، تو میرے دل نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور میری یہ پیاس بڑھتی ہی چلی گئی کہ مجھے وہ چیز ملے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہو، اللہ کا شکر ہے کہ جب میں نے قرآن پاک کو پڑھا تو میری پیاس بجھ گئی اور مجھے میری پسند کی چیز مل گئی. مجھے پتہ چل گیا کہ اللہ کی خوشی کے لئے جو بھی نیک کام کیا جائے وہ کبھی بیکار نہیں جائے گا اور دنیا میں اس کا کوئی بدلہ نہ ملے، تو آخرت میں اس کا انعام ضرور ملے گا۔
اس کے مقابلے میں قرآن نے بتایا ہے کہ جو لوگ کسی اخلاقی قانون کے بغیر زندگی گزارتے ہیں اور اللہ کی رضا کو سامنے نہیں رکھتے، دنیاوی زندگی میں چاہے وہ کتنے ہی کامیاب ہوں مگر آخرت میں بہت ہی نقصان میں رہیں گے، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیں ہر وہ بیکار اور بے فائدہ کام چھوڑ دینا چاہئے، جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو، قرآن کی ان تعلیمات کو میرے سامنے حدیث اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی نے مزید واضح اور روشن کیا جیسا کہ حضرت عائشہ نے ایک بار فرمایا'' آپ ا کے اخلاق قرآن کے بالکل مطابق تھے۔
اور وہ قرانی تعلیمات کا پورے طور سے نمونہ تھے، میں نے دیکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کا ایک ایک پہلو مثالی ہے،ایک بچے کی حیثیت سے، ایک باپ کی حیثیت سے، ایک پڑوسی، ایک کاروباری، ایک پروموشنل، ایک دوست، ایک سپاہی اور ایک فوجی جنرل کے اعتبار سے، ایک فاتح، ایک قانون ساز، ایک بادشاہ اور سب سے بڑھ کر اللہ کے ایک سچے عابدکے لحاظ سے وہ اللہ کی کتاب قرآن کے عین مطابق مثال تھے. پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دن بھر کی مشغولیات کے بارے میں جان کر میں بہت متاثر ہوئی.
آپ دن کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے اور آپ کا سارا وقت اللہ اور اس کی مخلوق کے لئے وقف تھا، ان کا اپنی بیویوں سے سلوک نہایت انصاف والا اور مثالی تھا، عدل وانصاف اور تقوی وپرہیزگاری کا یہ حال تھا کہ ان کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ ؓ نے جائز ضرورت کے تحت ایک غلام کے لئے درخواست کی تو انہیں تقوی اپنانے کو کہا اور اپنے گھر والوں پر دوسرے مسلمانوں کی ضروریات کو ترجیح دی، اسلام کے پیغمبرمحمدا نے زندگی کا مقصد عیش پسندی نہیں بلکہ 'کامیابی' قرار دیا، آپ کی تعلیم کے مطابق جو شخص آخرت کی کامیابی کے لئے عزم کے ساتھ اللہ تعالی کی بندگی کرتا ہے، اسے جذباتی سکون کے نتیجے میں خوشی خود بخود حاصل ہو جاتی ہے. اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ادنیاوی زندگی سے بالکل کنارہ کش تھے،بلکہ آپ یومیہ زندگی کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھتے تھے، خوش مزاج اور خوش بیان تھے،بسااوقات بچوں کے ساتھ بھی دل لگی کر لیتے تھے، مگر اصل توجہ کے قابل انہوں نے آخرت ہی کی زندگی کو سمجھا اور قدرتی اور روحانی زندگی میں بالکل توازن رکھا ۔
اب میں نے فیصلہ کر لیا کہ اسلام کے اثرات اپنی زندگی پر غالب کروں گی. شروع میں میں نے اپنے طور پر نیویارک کے اسلامی مرکز میں مسلمانوں سے ملاقات کی راہیں پیدا کر لیں اور بڑی خوشی ہوئی کہ جن لوگوں سے میرا تعلق ہے، وہ اچھے لوگ تھے،اسلامی مرکز کی مسجد میں میں نے مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس بات نے میرے اس یقین کو مضبوط کر دیا کہ صرف اسلام ہی پورے طور سے آسمانی مذہب ہے، باقی مذاہب میں صرف نام کی حقیقت موجود ہے، اب میں اس فیصلے پر پہنچ گئی تھی کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے اور اسلام ہی میں موجودہ زمانے کی برائیوں کا مقابلہ کرنے اور ان پر فتح پانے کی صلاحیت موجود ہے.
آخر میں میں نے اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے قبول کر لیا. اسلام قبول کرنے سے پہلے میرا مولانا ابوالاعلی مودودی سے کافی خط وکتابت ہوا. اسلام قبول کرنے کے بعد میری منزل کراچی تھی، جہاں میں مولانا مودودی کی دعوت پر گئی، جب میں کراچی پہنچی تو وہاں مولانا مودودی کے چاہنے والوں نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بے حد خدمت اور آؤبھگت کی،کچھ دن بعد میں جہاز کے ذریعے لاہور آ گئی اور مولانا کے گھر ٹھہری۔
میں مولانا کی بچیوں کی عمر کی تھی اس لئے مجھے اس گھر میں کوئی اجنبی پن کا احساس نہ ہوا، کچھ دنوں کے بعد میرا نکاح جماعت اسلامی پاکستان کے ایک مخلص رکن محمد یوسف خاں سے ہو گیا، میں نے اس رشتے کو خوشی کے ساتھ قبول کر لیا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ جاہلیت کی تمام رسموں کا انکار اور نبی اکے طریقے کی پیروی کرنا میری زندگی کا مقصد ہے. اللہ کا شکر ہے کہ میں اپنے نئے گھر میں خوشی اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں.

تفصیلی جانکاری کے لیے مندرجہ ذیل لنکس دیکھ سکتے ہیں
 مریم جمیلہ کی آب بیتی
Maryam Jameelah